نئی دہلی،31؍دسمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی)آگسٹاویسٹ لینڈ وی آئی پی ہیلی کاپٹر سودہ معاملے میں گرفتارکرکے ہندوستان لائے گئے عیسائی مشیل کے انکشافات کے بعد سے سیاست گرم ہوگئی ہے ۔ مشیل کی طرف سے گاندھی خاندان کانام لینے کے بعد سے جہاں حکمران بھارتیہ جنتاپارٹی حملہ آورہے وہیں کانگریس نے بھی تابڑ توڑ جوابی حملہ شروع کردیا ہے ۔
کانگریس کے ترجمان رندیپ سورجیوالا نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رافیل کے بعد آگسٹا معاملے میں داغدار نکلا چوکیدار۔اس موقع پر کانگریس نے ای ڈی کو بھی اپنے نشانے پر لیا۔سرجیوالا نے کہا کہ آگسٹا ویسٹ لینڈ معاملے میں مودی حکومت کا حقیقی ساتھی ای ڈی بن گیا ہے۔
سرجیوالا نے کہا کہ یو پی اے کی حکومت نے اس کمپنی کو بلیک لسٹیڈ کیا تھا جبکہ مودی حکومت نے آگسٹا ویسٹ لینڈ کو میک ان انڈیا کا حصہ دار بنا ڈالا اور بحریہ کے لئے100 ہیلی کاپٹر خریدنے کی اجازت دے دی۔انہوں نے کہا کہ مودی حکومت چور دروازے سے جھوٹ کا پروپیگنڈہ کررہی ہے۔کانگریس کے ترجمان کے مطابق سال2010میں12ہیلی کاپٹر خریدنے کا ٹھیکہ آگسٹا ویسٹ لینڈ کو3546 کروڑ روپے میں دیا گیا تھا۔جس کویکم جنوری 2014 میں یو پی اے حکومت نے منسوخ کر دیا۔اس کے بعد یو پی اے حکومت نے23 مئی کو2014 آگسٹا ویسٹ لینڈ کی ملکیت پر قبضہ کر لیا ۔سرجیوالا نے دعویٰ کیا کہ کانگریس کی حکومت نے خزانے کو نقصان پہنچانے کے بجائے دوگنا پیسہ جمع کر دیا۔سرجیوالا نے کہا کہ ہم نے تحقیقات شروع کی اور ڈیل کو منسوخ کر دیا لیکن مودی حکومت نے آتے ہی اس کمپنی کو چھوٹ دے دی۔
کانگریس نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ 22اگست2014 کو بی جے پی کی حکومت نے آگسٹا ویسٹ لینڈ کی بلیک لسٹنگ ختم کر دی اور 8 اکتوبر 2015کو مودی حکومت نے کمپنی کو119ہیلی کاپٹربنانے کی اجازت دے دی۔انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت آگسٹا ویسٹ لینڈ کی شرکت کو چھپانے کے لئے مشیل کااستعمال کر رہی ہے۔اس موقع پر کانگریس نے مودی حکومت سے کئی سوال کئے ہیں۔آگسٹا ویسٹ لینڈ پر بلیک لسٹنگ کیوں خارج گئی۔آگسٹا ویسٹ لینڈ کو میک ان انڈیا میں حصہ دار کیوں بنایا گیا۔ایف آئی پی بی نے119ہیلی کاپٹر بنانے کی اجازت کیوں دی۔2017-4میں نوی کیلئے 100ہیلی کاپٹر نوٹس میں درخواست کرنے کی اجازت کیوں دی گئی۔انٹرنیشنل کورٹ میں کیس کیوں ہار گئے اور ہارنے کے بعد اعلیٰ عدالت میں اپیل کیوں نہیں کی۔اپنا جھوٹ چھپانے کے لئے مشیل کااستعمال کیوں کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب بی جے پی نے ایک بار پھر کانگریس پر کرارا حملہ بولا ہے۔اتوار کو بی جے پی کے قومی ترجمان سدھانشو ترویدی نے کانگریس اور گاندھی خاندان پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا کہ سودے میں کرپشن کا معاملہ سب سے پہلے اٹلی کی عدالت میں اٹھا۔کانگریس کو اس کا جواب دینا چاہئے، کیونکہ یہ موضوع سیاست کا نہیں تھا، بلکہ ملک کی سلامتی کے لئے خریدے گئے ہیلی کاپٹر کا تھا۔انہوں نے کہا کہ معاملے کی جانچ سی بی آئی کو کانگریس کی قیادت والی یو پی اے حکومت نے ہی سونپی تھی۔کمیشن کھا کر جو بیرون ملک فرار ہو جاتے ہیں، ان کو واپس لانے کے لئے بھارتیہ جنتا پارٹی اہل تھی اور آج بھی ہے۔اب جب مشیل کو ہندوستان لایا گیا ہے، تو کانگریس گھبرا رہی ہے۔مشیل کے انکشافات کو لے کر کانگریس کی گھبراہٹ فطری ہے۔ترویدی نے کہا کہ معاملے کی جانچ کی کارروائی کو سیاسی شکل دینا انتہائی قابل مذمت ہے۔معاملے کی مکمل جانچ پڑتال ہونی چاہئے۔انہوں نے کانگریس سے سوال کیا کہ جب بھی کسی غیر ملکی کی بدعنوانی کا معاملہ سامنے آتا ہے، تو سب سے پہلے اس کا کنکشن گاندھی خاندان سے کیوں شامل ہو جاتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ کانگریس کو اس معاملے میں اپنا موقف صاف کرنا چاہئے اور جواب دینا چاہیے۔